عرض احوال ہے اپنا ہی مجھے اس سے غرض
تا بآخر جو یہ موزوں میں کیا از اَوََّل
شروع ماہ اردی موسم گل جیٹھ کا اول
کرے تھی چہچہے بلبل ہر اک پھولوں کی ڈالی پر
اس کتاب کے اول آخر کے چار چار صفحے غائب ہیں.
( ۱۹۲۴ ، نور اللغات ، ۱ : ۴۴۵ )
خدایا اول و آخر بھی تو ہے
خدایا باطن و ظاہر بھی تو ہے