قطب تارا کھینچتا آہن ربا کوں آپ دھر
سب ہی تاریاں میں اُوسے دستا ہے بڑ پن عہد کا
تو کھینچ کے اپنے اس کو لے من
آہن ربا جوں کہ کھینچے آہن
دوسری دفعہ لال کرکے صرف پانی میں بجھائیں تو سب لوہوں کو آہن ربا کی طرح وہ اپنے میں ملائے گا.
(۱۸۴۵، مجمع الفنون، ترجمہ، ۱۸۸)
دل ربا بھی ایک شے موجود ہے یاں اے حکیم
ہے فقط آہن رُبا کا حال تجھ پہ آشکار
جب سنگ مقناطیس کو جلاتے ہیں تو مصنوعی ہوجاتا ہے مگر فوت آہن ربائی زائل نہیں ہوتی.
(۱۸۷۷، عجائب المخلوقات اردو،۳۰۲)