توں شّداد ہور عاد و نمرود کوں
جدا کر نہ بوجے توں معبود سوں
میرا پیغام وصل اے قاصد
کہیو سب سے اسے جدا کر کر
(۱۷۵۱، نکات الشعرا، ۱۶)
سوا ئے اس جمال کے کو ئی اوٹھا نہیں سکتا اگر حکم ہو تو وہاں سے جدا کر دے اور راہ صاف ہو جا ئے .
(۱۸۰۳، گنج خوبی، ۴۱)
جس خدا نے زندگی میں میرا لال مجھ سے جدا کر دیا وق مرنے کے بعد مجھ سے ملا دے گا
(۱۹۱۹، جوہر قدامت، ۱۷۱)
رسید لکھ کر بھیجتا ہوں یہ ورق جدا کر کے دفتر میں بھجوا دیجیے گا
(۱۹۰۵، مکاتیب حالی، ۴۶)
آجر اپنے منافع کا ایک حصہ مزدوروں کو بانٹ دینا بمقابلہ ان کو جدا کرنے کے گوارا کرے گا
(۱۹۱۷، علم المعیشت، ۲۱۵)
چاروں بیل پانچوں گھوڑے جدا کر کے روپیہ دا خل کر دو
(۱۸۸۰، ربط ضبط، ۱ : ۳)