جیوں اس تھے جدا ہوا تیوں اس حرص کے پیر تھے یہی جدا دستا ہوں
(۱۵۸۲، کلمۃ الحقایق)
کیا باپ شہ تجسوں کہ کیا برا
کہ توں آج ہوتا ہے اس تے جدا
(۱۶۰۹، قطب مشتری، ۴۵)
یہ دونوں اس سفر کے آشنا ہیں
اگر چہ ان دنوں مجھ سے جدا ہیں
بیگانہ ہو کے سارے جہاں سے جدا ہوا
اے عالم آشنا جو ترا آشنا ہوا
پانی کا ایک قطرہ آغوش پدری سے جدا ہو کر زمین کی طرف چلا
(۱۹۱۲، شہید مغرب، ۱۳)