کیا پہر نظر چرھا ہے، اے میر کوئی خوش رو
یه زرد زرد چہرہ تیرا اتر رہا ہے
کیا حال ہو گیا رات ہی بھر میں چہرہ اتر گیا.
( ۱۸۸۷ ، جام ساشار ، ۱۸۰ ) .
کیوں بیٹا کہو کیا با ت ہے ، تمہارا چہرا اترا ہوا کیوں ہے.
( ۱۹۲۳، قوم پر ست ، ۱۱۷ ) .
رعب سلطانی سے یه چہرہ اتر سکتا نہیں
جو خدائی سے لڑے شاہی سے ڈر سکتا نہیں
غم سے رنگ جل گیا اور چہرہ اتر گیا.
( ۱۸۰۲ ، نثر بے نظیر ، ۹۷ ) .
چڑھ رہی آنکھیں ہیں تیری، چہرہ ہے اترا ہوا
کی کسی کے ساتھ تو نے آج مے نوشی ہے خوب
دکھا دیتا ہوں نقشه جب میں اپنی نا توانی کا
اوتر جاتا ہے چہرہ صورت تصویر مانی کا
شام کا چہرہ غم پنہاں سے کچھ اترا سا تھا
پا نی تھم تھم کر جو بہتا تھا سنّاٹا سا تھا