توانائی ایسے سفر کرگئی
کہ نبضوں کو تحریکِ منزل ہوئی
زباں بھی مرگئی ، فصاحت و بلاغت سفر کرگئی ۔
( ۱۸۹۰ ، فسانۂ دلفریب ، ۱۲ ) .
’’جب تے سفر پی نے کیا تب تے غریب آوارہ ہوں .
پی بیگ آنا کریں یا مجکو لیں بلوائے کر ‘‘ !!!
وزیر الممالک کو پہون٘چی خبر
کہ فیض اللہ خان کرگیا ہے سفر
لبِ شیریں کی محبت میں سفر کر ہی گیا
زہر میٹھا تھا مگر مجکو اثر کر ہی گیا
اس دل میں تمہیں سیر کرو ... خُدا نے رضا ہے سفر کرو اس میں ۔
( ۱۶۰۳ ، شرحِ تمہیداتِ ہمدانی ( ترجمہ ) ، ۱۹ ) .