اس نے مجرا کر کے کہا کہ عمرو دولت خدا کی بڑھے اور مہرِ انصاف . . . تا قیامت جلوہ گر رہے.
(۱۸۰۱ ، آرائش محفل ، حیدر بخش حیدری ، ۹)
خاک لانے سے گر خدا پائیں
گائے بیلاں بھی واصلاں ہو جائیں
پیغمبر کہے خدا کی آشنائی جے کوئی بوجھتا ہے انو کیاں توں.
(۱۴۹۶ ، شاہ میراں جی ، شہادت الحقیقت (دکنی ادب کی تاریخ ، ۲۵))
یکس تے یکس کوں کیا نامدار
خدا کی صفت کوں نہ کچھ انت یار
خدا جب جسے کچھ دلاتا اہے
توں شاہاں کے بی دل میں لیاتا اہے
آبرو غم کی بھنور میں دل خدا سیتی لگاؤ
ناخدا کچھ کام نہیں آتا ہے مجھدھاراں کے بیچ
اسم اللہ اور خدا کا ناؤں
گرما دھوپ اور سایہ چھاؤں
شروع خدا کا نام لیکر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے.
(۱۹۰۰ ، ترجمہ قرآن مجید ، فتح محمد جالندھری ، ۲)
تجلی زارِ فطرت میں محمدؐ کے سوا کیا ہے
خدا کے بعد جو کچھ ہے محمدؐ ہی کا جلوا ہے
بیدل ہائے بیدل . . . لیکن اس کا کیا علاج کہ تخیل کا بادشاہ ہے ندرت بیان کا خدا ہے.
(۱۹۲۴ ، سالنامہ نگار (مکتوبات نیاز) ، ۹۰)
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۲۹۰)
میوزیم میں جاؤ ہزاریا تصویریں پتھر کی ہیں تمام چیزوں کے خدا وہاں دیکھو گے.
(۱۸۸۰ ، تہذیب الاخلاق ، ۵۳)
[ ف : خدا ، خداے ؛ پہلو : کھوتائی (Khotai) ]
