رہے در پر بتاں کے تم جہاں دار
خدا حافظ تمہارا، گھر چلے ہم
ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
بت کدے کا بتو خدا حافظ
وہ یقینی اپنے کو حد درجہ خطرہ میں ڈالنے والی ہے اس کا بس خدا ہی حافظ ہے.
(۱۹۳۱، اودھ پنچ، لکھنؤ، ۱۶، ۳:۴۴).
کمال حسن پہ تیرے کبھی نہ آئے زوال
ترے جمال کا اے مہ لقا خدا حافظ
قدم کوریا میں جمے روسیوں کے تو پھر اہل جاپان کا حافظ خدا ہے.
(۱۹۰۵، جنگ روس و جاپان، ۲).
ہے مرگِ ناگہاں سر پر تمہارا اب خدا حافظ
مبارک رہنے والوں کو شبستاں ہم نہیں ہونگے
خدا حافظ فغان کس پیچ میں آیا ہے دل میرا
وہ چیرا لٹ پٹا رہ رہ کے مجھ کو یاد آتا ہے
شوق ہے اس کو خود نمائی کا
اب خدا حافظ اس خدائی کا
نظارہ روز و شب ہے مصحفِ رخسارِ قاتل کا
یہی صورت رہی تو بس خدا حافظ مرے دل کا
اگر یہی ہے شب و روز گریہ و زاری
تو کوئی دن کو ترا چشمِ تر خدا حافظ
بنیاد اگر بگڑ گئی تو عمارت کا خدا حافظ ہے.
(۱۹۳۶، خطبات عبدالحق، ۷۰).
جب مہمان رخصت ہونے لگیں تو میزبان سے خدا حافظ کہنا ضروری ہے.
(۱۹۱۶، خانہ داری (معاشرات) ، ۱۲۶).
ہاتھ ہلاتا ہوا چلا گیا.
(۱۹۷۷، ابراہیم جلیس ، الٹی قبر ، ۱۶۴).
بس خدا حافظ ، چلا نا کامگارِ زندگی
ہو مبارک آپ کو عیشِ بہار زندگی
[ خدا + حافظ (رک) ]
