ہر دفعہ چال چلنے میں ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ دیکھنے والوں کے منہ سے بے اختیار واہ نکل جاتی ہے.
(۱۹۴۴، چپو، ۳۴۰).
واہ میاں گھسیٹے خوب دور کی کوڑی لائے.
(۱۸۸۷، جامِ سرشار، ۲۴).
آج کے بعض افسانہ ناروں ک یہاں تو سوائے ابہام اور دور کی کوڑی لانے اور کچھ نہیں مِلتا.
(۱۹۷۰، آج کا اردو ادب، ۱۳۷).
سود پر روپیہ چلائیں گے انھوں نے کہا واقعی آج آپ بڑی دور کی کوڑی لائے.
(۱۸۹۲، خدائی فوجدار، ۱ : ۱۷۰).
اتنی دور کی کوڑی لانا ہر شخص کے بس کا روگ نہیں.
(۱۹۵۰، مقالاتِ عبدالقادر، ۳۴۳).
واہ صاحب کیا دور کی کوڑی لائے.
(۱۹۳۵، اودھ پنچ، لکھنؤ، ۲۰، ۴۰: ۹).
تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ یہ دور کی کوڑی منصور علی ڈھونڈھ کر لائے تھے.
(۱۹۸۴، کیمیاگر، ۲۲).
