عقل کو عقل ہے تری رائے تھے
کرے کام تجھ کام فرمائے تھے
کہاں تک کام ناکام اس جفا جو کے لیے مریے
اگر تلوار ہاتھ آوے تو اپنا کام کریے اب
کیا چلے گا کسی پہ بل میرا
کام کرجائے گی اجل میرا
بعد رخصت کے یہاں موت کسے آئے گی
آپ میرا تو ابھی کام کیے جاتے ہیں
کام کرنیں سکیاں عقل کا پھیر ، عشق آخر کیا عقل کوں زبر.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۶۴).
میر انیس مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے دیکھا ، کہیں اتفاقاً ہاتھ اُٹھ جاتا تھا یا گردن کی ایک جنْبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کرجاتی تھی.
(۱۸۸۹ ، آبِ حیات ، ۳۸۵).
سُنیں گے نہ حالی کی کب تک صدا
یہی ایک دن کام کر جائے گی
میری ابھی گیارہ برس کی عمر ہوگی کہ یہ باتیں کام کرگئیں تھیں .
(۱۹۴۲ ، غبار خاطر ، ۷۸).
ظالم انکھیوں کا تیرِ ستم کام کرگیا
سینے کوں توڑ صاف جگر سے گزر گیا
جب غازیانِ فوجِ خدا نام کرگئے
لاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کرگئے
اس لڑائی کی تہہ میں کیا چیز کام کررہی تھی .
(۱۹۳۱ ، سیّدہ کا لال ، ۷) .
پیتن نے ریاست اور مروت کی کام کیا . . . تسکین دی ، آبرو بخشی .
(۱۸۴۶ ، سرورِ سلطانی ( ترجمہ ) ، ۲۳۶) .
سید انشا نے بھی شرافتِ خاندانی اور علّوِ حوصلہ کو کام کیا اٹھ کر حکیم صاحب کے گلے لپٹ گئے .
(۱۸۸۰ ، آبِ حیات ، ۲۶۵) .