ہمارا اس مکان سے جی خوش ہوا، اور لالہ کا ہم سے کہ ایسا کھرا کرایہ دار ملا.
(۱۸۹۴، ہشّو، ۱۵)
حاکمِ وقت زمین کا مالک ہوا تو بچارے کاشتکار اُس کے مقابلے میں ایسے ہو گئے جیسے مالکِ مکان کے ہاتھ تلے کرایہ دار.
(۱۹۰۶، الحقوق و الفرائض، ۲: ۴۱۴)
کوئی صاحب اپنے گھر کا نصب حِصہ کرائے پر دینا چاہتے تھے اور کسی شریف کرایہ دار کی تلاش میں تھے.
(۱۹۸۸، صدیوں کی زنجیر، ۴۹۵)