کرے فرہاد محنت اور ملے پرویز کو شیریں
کچھ اب کا ہی سا ناانصاف اگلا بھی زمانا تھا
کمال یہ کہ مانند ۔۔۔۔۔ ناانصاف اور بے انصاف کے نامراد و بے مراد کا بھی مورد ِ استعمال مشترک رہا ۔
(۱۸۶۶ ، خطوط غالب ، ۳۴۰)
کیا میںسخن ناشناس اور ناانصاف ہوں کہ ایسے کلام کے حک و اصلاح پر جرأت کروں ۔
(۱۹۸۲ ، اردوئے معلی ، کراچی ، ۱ : ۲۴۱)
[ نا + انصاف (رک) ]
