یک وقت پر آدمی اچھے دنگ
نا روپ نہ رنگ بلکے بے رنگ
گل گریباں چاک ہے بیمار نرگس غنچہ تنگ
کس کو دیکھا کیوں صبا بے رنگ ہے گلشن کا رنگ
ان کے بغیر محفلیں سونی پارٹیاں بے لطف جلسے پھیکے سیریں بے رنگ ہوتی ہیں .
( ۱۹۲۲، گوشہؑ عافیت ، ۱ : ۱۸ )
اس گلشن ہستی سے نکل راہ عدم لے
بے رنگ نظر آے ہے کچھ رنگ یہاں کا
عجب بے رنگ ہیں افسانہ ہاے لیلے و شیریں
ہوا ہے جب سے شہرہ آپ کی رنگین ادائی کا
خوش نہ ہوتا تو کبھی ہنس کے نہ کہتا بے رنگ
کیا ہو اس سے جو سائل میں ہوا بو سے کا
اسم کیفیت : بے رنگی
(۱۸۳۱ ، دیوان ناسخ ، ۲ : ۱۸ )
شاید آگے بڑھ کر یہ پردہ بھی اٹھ جاے اور وجہ معیشت اور صحت و راحت سے بھی گزر جائوں عالم سے بے رنگی میں گزر پائوں.
(۱۸۶۹ ، غالب ، خطوط ، ۱۷۷ )
[ بے + رنگ (رک) ]
