عاشق کے مراتب پر کون کھڑا ، عاشق کا مراتب سب مراتب سوں بڑا ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۳۴)
کاں لگ لکھوں شیخ کے مراتب
ہونا اوسے یک ہزار کاتب
جی دینا دل دہی سے بہتر تھا صد مراتب
اے کاش جان دیتے ہم بھی نہ دل لگاتے
شوق سے اپنا گلا کاٹ کے اون میں مل جائیں
آپ گر اپنے شہیدوں کے مراتب دیکھیں
فہم قرآن میں سب لوگ یکساں صلاحیت کے مالک نہیں اس بنا پر ان میں باہمی فرق مراتب ہو گا ۔
(۱۹۹۳ ، اُردو نامہ ، لاہور ، جولائی ، ۱۲)
ملازمت دس روپیہ ماہوار سے شروع کی ، ترقی آہستگی سے کی تنخواہ میں بھی اور مراتب میں بھی ۔
(۱۹۲۵ ، وقارِ حیات (تمہید و شکریہ) ، ۲۵)
یہ سب مراتب تین برس سے ورے ورے ختم ہو جائیں گے ۔
(۱۸۷۴ ، مجالس النساء ، ۱ : ۱۲۴)
تم نے اب تک کچھ جواب مراتب مستفسرہ متعلقہ روانگی مردمانخانہء خود نہیں لکھا ۔
(۱۸۹۰ ، مکتوباتِ حالی ، ۲ : ۱۳۰)
نفس قصص و افسانہ کے واسطے چند مراتب لازم و واجب ہیں ۔
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۴ : ۲۳۸)