جب ذات کا بہ حیثیت مجموعی صفات سے متصف ہونا ملحوظ ہو تو اس کو لاہوت کا مرتبہ کہہ دیا جاتا ہے ، اور جب تفصیل وار جدا جدا صفت سے متصف ہونا ملحوظ ہو تو اس کو مرتبہء جبروت سے تعبیر کر دیتے ہیں ، ان مراتب کو مراتب الٰہ بھی کہا جاتا ہے ۔
(۱۹۹۵ ، قومی زبان ، کراچی ، فروری ، ۳۶)