لے گیا دل کو ، ہنستے ہنستے صنم
کر کے دار و مدار اور اخلاص
دوست دشمن سے دار و مدار رکھو ، دوسرے سب کام مشورت سے کرو .
(۱۸۲۴ ، سیرِ عشرت ، ۱۷)
تمھارا غیر سے دار و مدار دیکھ چکے
عنایت و کرم بے شمار دیکھ چکے
کوب دلیری سے کام کرنے لگا مگر دار و مدار کے ساتھ کرتا تھا .
(۱۸۸۳ ، دربارِ اکبری ، ۸۰۶ )
مت بگڑ اس سے بس کر ، اے واقف !
اب تو دار و مدار کی ٹھہری
اورنگ زیب نے سکندر عادل شاہ بیجا پور سے دار و مدار کرکے ایک کروڑ روپیہ کی پیشکش نقد و جنس کی بوعدۂ اقساط قبول کرلی .
(۱۸۹۷۷ ، تاریخِ ہندوستان ، ۸ : ۸)
بے حیا مجھ سے وصل کا انکار ہے اور طلسم کشا سے ایسا دار و مدار ہے .
(۱۸۸۰ ، طلسمِ فصاحت ، ۱۳۴)
صحبتِ اغیار و یار دیکھیئے کب تک رہے
مجھ سے یہ دار و مدار دیکھیئے کب تک رہے
کیوں بہن کیا تھا بہم قول و قرار
کیوں بھلایا کھیل کا دار و مدار
دل سے سب محو کیے تو نے جو تھے قول و قرار
بھولے اے عہد شکن تجھ کو وہ سب دار و مدار
یہاں سبھوں نے بھلائی ہے دل سے موت اور گور
یہاں نہیں ہے مدارا بغیر دار و مدار
دولتِ حاکمِ دوں پر ہے ترا دار و مدار
دارِ دنیا سے تعلق نہیں رکھتے دین٘دار
جڑیں ہوا کی نمی کو جذب کرتی ہیں اور اس پر پودے کی زندگی کا دار و مدار ہے .
(۱۹۸۱ ، آسان نباتیات ، ۱ : ۲۵)
وہی جلوہ ریز حرم میں ہے وہی نور بیتِ صنم میں ہے
وہی تم میں ہے وہی ہم میں ہے وہی سب کا دار و مدار ہے