خود داریوں کی تُو نے ہی چھیڑی ہے داستاں
تیری ہی بادِ صُبح سے مہکا ہے بوستاں
میں آج کی صحبت میں واحدی صاحب کی داستان چھیڑتا ہوں کہ یہ ... حکایتِ شیریں ہے.
(۱۹۸۳، نایاب ہیں ہم ، ۳۳۱).
شہزاد کوٹ روانگی سے پہلے وہ شام کے وقت آپ کا تشریف لانا اور اس داستان کو چھیڑنا ، تاہم آپ کو یاد ہو گا کہ آپ مجھے تقریباً کوئی خاص حوصلہ افزا جواب دے کر نہیں گئے .
(۱۹۳۵، یوسف عزیز مگسی ، مکاتیب ، ۱۱۴).