بہت مرد جنگی ہوئے سرنگوں
جنگل میں ندی ہوئی ز سیلابِ خُوں
کِن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
مِژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
بارش کی کثرت و سیلاب کی شورش سے جس سے زمیں میں کھیتی نہ ہوتی اور بونے جوتنے میں کسانوں کو مشکل پڑتی ہو تو اس کے لیے یہ دستور مقرر ہوا ہے ۔
(۱۸۹۷، تاریخ ہندوستان ، ۵ : ۷۶۳) .
پھر ان پر آبِ حیات چھڑکا جائے گا تو وہ اس طرح اُگیں گے جس طرح سیلاب کے بہاؤ میں جنگلی دانہ اُگتا ہے ۔
(۱۹۳۲ ، سیرۃ النبیؐ ، ۴ : ۷۷۶ ) .
ہم سیلاب اور سائیکلون جیسے قوی سانحوں سے گُزر چکے تھے ۔
(۱۹۷۷ ، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ، ۳۶) .
دُکھ کے دریا سوں نیر انکھیاں میں ابھال ہو
سیلاب ہو انجو کے پجر ہائے ہائے ہائے
تمہاری پردہ گردی کا خیال آتا ہے جب دل میں
دُوبتا ہے سیلابِ ندامت مجھ کو گردن تک
فوجیں بالکل ناکافی ثابت ہوئیں اور پارتھی لشکر کے بڑھتے سیلاب میں بہہ گئیں .
(۱۹۶۹ ، تاریخ سلطنت روما ( ترجمہ ) ، ۴۸۳ ) ۔
ضبط کے شہر پناہوں کے مزے مالک خیر
غم کا سیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
ممکن ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ مسلمان ان تجاویز کی تائید یا مخالفت کے واسطے جو تجویز کی گئی ہیں سیلاب میں پھنس جائیں ۔
(۱۹۲۵ ، وقار حیات ، ۶۶۱) .