۱. (i) اللہ سے مان٘گنا ، طلب کرنا ، اِلتجا ، عرض ، پکار .
کیا سرفراز خاص ہور عام سب
کہ کرتے دُعا صبح ہور شام سب
( ۱۵۶۴ ، حسن شوقی ، د ، ۱۱۴ )
معانی ہے گنہ گارا رکھیں یارب آپ آدھارا
رکھیا سر تیرے دربار آکریں اُس کا دُعا آمیں
( ۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۲ : ۱۹۱ )
یک جس کی دُعا ہزار دعوات
دعوات بی تنس اوپر دھرے بات
( ۱۷۰۰ ، من لگن ، ۲۰ )
(لوگ) مشکل میں دُعا ، صدقہ ، خیرات وغیرہ کرتے ہیں .
(۱۸۳۰ ، تقویۃ الایمان ، ۱۴۳ )
روشن و رخشاں رہے پرچمِ نجم و ہلال
لم یَزل و لایزال میری ہے تجھ سے دُعا
( ۱۹۸۴ ، سمندر ، ۱۷ )
(ii) وہ آیتیں یا دُعائیں جو الہ تعالیٰ سے اِلتجا کے لیے پڑھی جائیں .
جس گھڑی قبیل نے ہابیل کو قتل کیا ہابیل کی اولاد کو یہی خیال گُزرا کہ جنوں نے اس کو سِکھلایا اس سے اور بھی ان کو جنوں کے ساتھ دُشمنی اور عداوت ہوئی ... سحر افسوں ، دُعا ، تعویذ ... اور بہت سے عمل کہ جس سے جنوں کو تکلیف پہنچے ، ( ہابیل کی اولاد ) عداوت سے کرے تھے .
(۱۸۱۰ ، اخوان الصفا (ترجمہ) ، ۴۱ )
سجدے میں شُکر کے کوئی تھا مردِ باخدا
پڑھتا تھا کوئی حُزن سے قرآن ، کوئی دُعا
( ۱۸۷۴ ، انیس ، مراثی ، ۱ : ۳۴۰ )
اُن کا ( دشمنوں کا ) سحر باطل کرنے اور مقاصدِ دینی و دُنیوی پُورا ہونے کے لیے یہ دُعا ( دعائے سباسب ) مُجَرَّب ہے .
( ۱۹۷۳ ، رام راچ ، ۳۵ )
۲. (i) کسی کے حق میں کلمۂ خیر ، خلوص و نیک تمنّاؤں کا اظہار .
دُعا بد دُعا کِس کو دیتے نہیں
وہ پٌونجی ٹَکا اپنے لیے نہیں
( ۱۶۸۵ ؟ ، معظم بیجاپوری ، گنج مخفی ( قدیم اردو ، ۱ : ۲۶۹ ) )
پڑا ہوں کوہ غم میں اس دلِ ناشاد سوں جاکر
دُعا بولو مری جانب سوں کئی ( کوئی ) فریاد سوں جاکر
( ۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۷۵ )
دعا کی نہر میں مایوس کی ریت بھری
زبانِ خواب فقط آبلوں کو صحرا تھا
( ۱۹۸۱ ، ملامتوں کے درمیاں ، ۴۵ )
(ii) (خطوط نویسی) وہ کلمہ جو چھوٹے کو خط میں القاب یا نام وغیرہ کے بعد سلام کی جگہ لِکھا جائے ، جیسے : جیتے رہو ، خوش رہو وغیرہ .
دُعا وہ لفظ ہے جو القاب اور نام یا خِطاب کے بعد لِکھا جاتا ہے .
( ۱۸۶۹ ، انشائے خرد افروز ، ۷ )
۳. (نحو) جملۂ انشائیہ کی ایک قسم .
الف ... جب کلمے کے بیچ میں آوے تو واسطے دُعا کے ہووے .
( ۱۸۵۵ ، تعلیم الصبیان ، ۲۷ )
محبت و عداوت ... تاسف و پشیمانی ، خواہش و غضب اور اس کے تعبیرات امر و نہی دُعا و استفہام اور انشا کے تمام اِقسام ہر شخص کے کلام میں برجستگی اور روانی کے مُوجد ہیں .
( ۱۹۱۶ ، نظم طبابائی (مقدمہ) ، و )
۰۴ خواہش ، مراد ، مبارک ، سلام .
(جامع اللغات)
۰۵(طنزاً) بد دُعا ، کوسنا ، بُرے الفاظ زبان پر لانا .
جو بے عشق ہے وہ نہیں ہم سے قائم
گھبرانے میں اپنے کِسو کی دُعا ہے
( ۱۷۹۵ ، قائم ، د ، ۱۸۴ )
اب ہمیں ہیں کہ گرفتار مصیبت ہیں سدا
عشق کی جان کو بیٹھنے ہوئے کرتے ہیں دُعا
( ۱۸۵۸ ، امانت ، واسوخت ، ۱۸۶ )
[ ع : ( د ع ا ) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .