نہ دیکھیں گی تس ظالم سیتی کدیں
بھتے نیر پر کوئی چین جبیٖں
پیشانی نہ بہت بڑی ہوئے نہ چھوٹی ہوئے اور چین اس پر پڑتی ہوئے تو یہ نشان سچ اور دوستی کا اور عقل کا اور علم کا اور تدبیر کا ہے.
( ۱۷۴۶ ؟ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۳۱۰ )
تیری پیشانی کی چینیں موج دریائے سخا
تیرے ابرو کشتی بحر نجات بے کراں
خندہ پیشانی سے سنتے تھے وہ سب کے اعتراض
گالیاں کھا کر بھی ابرو پر نہ لاتے تھے وہ چیں
چین کو چاروں طرف سیتی دیا
کھینچ کرکے نیچے پٹکے کے چھپا
پیشواز کی چین اُٹھی ہوئی ، چولی انداز سے چسی ہوئی .
( ۱۸۰۲ ، نثر ہے نظیر ، ۹۱ )
کیا تعجب ہے اگر دیکھے تو مردہ جی اٹھے
جین نیفے کی ڈھلک پیڑو پہ آنی آپ کی
حلقے حلقے میں ہیں عشاق کے دل گرم فغاں
کوچۂ حشر ہے ہر چین معنبر گیسو
گئے ہو مشک وہ کافور سے بال
گئی چین اس کے رخساروں کی فی الحال
جانور (ہاتھی) کی کھال چین زدہ نہ ہو اور جانور تندرست و باوقار ہو .
( ۱۹۳۸ ، آئین اکبری (ترجمہ)، ۱ ، ۱: ۲۲۵ )