کِیا ہوں مشقِ عشق ایسا ہی تیری ہم نشینی میں
نہ پہنچے وامق وعذرا جہاں طفلِ دبستاں کو
تجکو دانا بھی اگر دیکھے تو ناداں بن جائے
ہر خرد مند یہاں طفلِ دبستاں بن جائے
کیوں نہ پائے وہ سزا ہو جو خدا سے غافل
مار کھائی جو سبق طفلِ دبستان بھولا
(۱۸۷۰ ،ا دیوان اسیر ، ۳ : ۸۷)
میرے مقابلے میں حسن بن سباح طفلِ دبستان کی حیثیت رکھتا ہے.
(۱۹۲۹ ، لال کٹھور ، ۶۷)