املی کی جڑ سے بادام نکلنا اور گولر کے درخت سے آم نکلنا آسان ہے مگر نوخیز عورت کو علیحدہ مکان میں یکہ و تنہا چھوڑنا ... ایں خیال است و محال ست و جنون.
(۱۸۹۲، خدائی فوجدار، ۲۳۲:۱).
پھلوں کے مضر اثرات کا انہیں بہت وسیع علم تھا ، گولر اور جنگلی بیر کے سوا اور ایسا کوئی پھل نہ تھا جسے وہ بیماریوں کا گھر نہ سمجھتے ہوں.
(۱۹۳۶، پریم چند، پریم بتیسی ، ۱۷۳:۱).
کمروں کے آگے برآمدے ، بالکنیاں ، محرابیں اور محراب نما کھڑکیاں جن پر بڑ کی گولر بھری شاخیں جھکی رہتیں.
(۱۹۸۸، صدیوں کی زنجیر ، ۲۰۲).
فالودے ، تنکی و باقرخانی و روغنی و شیرمال ، گولر اور چھوٹی نان کلیچہ اور کماچ.
(۱۷۴۶، قصہ مہر افروز و دلبر، ۱۷).