گولر کا پھول ہےاس کا رخِ رنگیں
پایا نہ پتا ہم نے کبھی اسکے انشاں کا
تیرے مریض لب کی دوا جب تلاش کی
گولر کا پھول باغ میں عناب ہو گیا
میری تنخواہ میں ایسا کہاں کا گولر کا پھول پڑا تھا جو گلوریوں پر گلوریوں کھاتی اور کھلاتی.
(۱۹۲۹ ، اودھ پنچ ، لکھنؤ ، ۱۲ ، ۷ : ۴) .
سارا خرچہ اسکی کے بوتے پر چلتا تھا ، نہیں تو میری تنخواہ میں ایسا کہاں کا گولر کا پھول پڑا تھا.
(۱۹۵۹، گناہ کا خوف ، ۱۰۱).