شہر آشوب (رک) کی ایک قسم، ایسی نظم جس میں لڑکوں کے حسن و جمال اور ان کی دلکش اداؤں کا ذکر ہوتا تھا اور جن کا مقصد محض تفریح و تفَنّنِ طبع تھا اور جس سے شہر میں فتنے اور ہنگامے اٹھنے کا ڈر بھی ہوتا تھا.
وحیدی قمی کا شہر انگیز تبریز جو تبریز کے نوخیزوں کی تعریف میں ہے.
(۱۹۸۵، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ۱۱۳) .
[ شہر + ف : انگیز، انگیختن = اُٹھنا، اٹھانا ] .
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .