سو میٹھی شہریار کی بات ہے
نہ اوس بات کی دھات نا بات ہے
اچھو جم خرد کا علم تابدار
اچھونت زبانِ سخن شہریار
عاشقی کے ملک کے اب ہوئے ہیں تاجدار
خوبرویاں کا ہمارے ساتھ ہے اک شہریار
صاحب ہمّت اس طرح کا اب تک نہ کوئی ہوا ہے نہ ہوگا یقین ہے کہ ایسا شہریار ہو کہ عالم اجنات بھی مطیع اور فرمانبردار ہو.
(۱۸۰۳، گل بکاؤلی، ۶) .
اے شہر یار یہ بادۂ محبت ہے اسے نوش فرمائیے.
(۱۸۸۲، طلسمِ ہوش رُبا، ۱ : ۲۵) .
اے رئیسِ پاک دل اے شہر یارِ نیک نام
بھوک کی ماری ہوئی مخلوق کا لیجے سلام
ایسی غزل کہی نہ کہیں گے تمام عمر
انعام و داد جس پہ ملے شہر یار سے