کس بل غضب کا ، قہر کی ضربت ، بلا کا زور
نعرہ یہ تھا کہ مجھ میں ہے مشکل کُشا کا زور
سورماؤں نے بھی اس کا کس بل دیکھا، تھرّا اُٹھے.
(۱۹۳۶، پریم چند، خاکِ پروانہ، ۱۱۱).
میرے آقا کا دعویٰ ہے کہ و تاتاریوں کو کچل سکتا ہے ان کا کس بل نکال سکتا ہے.
(۱۹۵۴، گُل کدہ، رئیس احمد جعفری، ۵۴۹).
وہ آدمی کو صرف اپنے کس بل پر اُبھرتے اور آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں.
(۱۹۸۶، نیم رخ، ۲۲).
پیری میں طنطنہ قدِ خم گشتہ کا ہے شرط
کَس بل ہو کچھ گھڑی کی کمانی کے واسطے