عَباری نے دریا کو کوزے میں کس کس کے بھرا ہے اور صدیوں کا زنگ چھڑایا ہے ... نیا تاریخی دور شروع ہوتا ہے.
(۱۹۲۱، مکاتیبِ مہدی، ۹۱).
سند بانٹنے کا کاروبار شروع کردیا ہے اور اب وہ اپنی کسوٹی پر کَس کَس کے کھرے کو کھوٹے سے الگ کیا کرتے ہیں.
(۱۹۸۷، اک محشر خیال، ۳۹).