آدمی کو بناوٹ ، تکلف ، تصنع میں وہ ملکہ حاصل ہو کہ ان کو بے تکلف کرنے لگے ۔
(۱۸۹۱ ، محاسن الاخلاق ، ۳۲۷) ۔
اسے ہر موقع کی غزل اور گیت گانے میں ملکہ حاصل تھا ۔
(۱۹۶۲ ، آنگن ، ۱۳۱) ۔
خوبصورتی کے ساتھ اظہار کرنے میں ان کو ملکہ حاصل تھا ۔
(۱۹۹۲ ، نئی سمت ، ۲۲۰) ۔