بی بی حاج کا یہ ملکہ تھا کہ وہ ملکہء دوجہاں ہر قسم کا علم رکھتی تھیں ۔
(۱۸۶۴ ، تحقیقاتِ چشتی ، ۱۸۴) ۔
مجھے حجامی اور محرری دونوں کاموں میں ملکہ تھا ۔
(۱۸۹۱ ، قصہء حاجی بابا اصفہانی ، ۴) ۔
اولاد کی تربیت کا ان میں خدا داد ملکہ تھا ۔
(۱۹۳۸ ، حالاتِ سرسید ، ۳) ۔
میلی میلی یہ جو پڑوس میں مسز ملک ہے نہ دیکھنے کے انداز سے دیکھنے میں اسے کسی قدر ملکہ ہے ۔
(۱۹۸۹ ، مفتیانے ، ۱۰)۔