نواب کو ملکہء راسخہ ہوگیا تھا ۔
(۱۸۹۶ ، سوانحات سلاطین اودھ ، ۱ : ۲۵۹) ۔
دل میں نیکی یا برائی کا ملکہء راسخہ پیدا ہو جاتاہے ۔
(۱۹۰۲ ، علم الکلام ، ۱ : ۷۴) ۔
قلب یا روح میں ایسے ملکہء راسخہ کا پایا جانا جس کے طفیل انسان سے حسین یا قبیح افعال بلا تکلف خود بہ خود سرزد ہوں ۔
(۱۹۹۱ ، سرگزشت فلسفہ ، ۲ : ۴۳۸) ۔