نہیں ہے تیرا غم جدائی یہ مرگ ہے بہر اہل عالم
وبا ہے پھیلی ہوئی جہاں میں گھروں سے مُردے نکل رہے ہیں
دل کو پہلو میں ٹٹولو تو پھپھولا پاؤ
یہ وبا پھیل گئی ہے ترے بیماروں میں
جس دن میں اس دنیا میں آیا ، سنتے ہیں اس روز ہمارے شہر میں دن بھر زلزلے آتے رہے ہزاروں مکان گر گئے وبائیں پھیلیں ۔
(۱۹۸۰ ، لہریں ، ۱۹۵) ۔
مصر میں ۱۹۴۷ء میں ہیضہ کی وبا پھیلی ۔
(۱۹۹۴ ، نگار ، کراچی ، اکتوبر ، ۳۳) ۔