تین بیسی اول درجے کا ایک لاکھ تنخواہ پاتا ہے.
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب ، ۳۰۲).
ایک دفعہ تین بیسی لالوں سے کھچا کھچ دو پنجرے بھرے.
(۱۸۹۱ ، ایامیٰ ، ۱۱۵).
ہے یہی چیز صرف نام کا فرق ہے تین بیسی نہ کہا ساٹھ کہ دیا.
(۱۹۲۴ ، انشائے بشیر ، ۳۱۸).
[ تین + بیس (رک) + ی ، لاحقہ نسبت ]
