آفت آئی تھی کوشامد سے بچایا سب نے
اس سیہ کار کو ڈھالوں میں چھپایا سب نے
موذیوں کا خان وماں برباد کرتا ہے فلک
جب نہ تب آنی تھی آفت خانہ زنبور پر
ہر شہر میں آفت آئی ہے سرکاری عملداری اٹھائی ہے .
(۱۸۹۰ء فسانہ دلفریب ،۵)
اس کے کوچے میں نی چل ساتھ مرے اسے سودا
آفت آجائے نہ اے یار کہیں میرے پر
ہماری غریبوں پر آفت آئے گی
مفت عزت ہماری جائے گی