ہجر کی شب اضطراب دل نے آفت توڑ دی
صبح تک تڑپا کیا دم بھر نہ نیند آئی مجھے
ستم کرتا ہے آفت توڑتا ہے قہر ڈھاتا ہے
سوال وصل پر کہنا کسی کا ہو نہیں سکتا
آج تو سرکار نے نو کروں پر آفت توڑ رکھی ہے.
( ۱۸۹۱ ء، امیر اللغات ، ۱ : ۱۳۴ )
ان کی یہ چیز نہ چھیڑؤ آکر آفت توڑ دیں گے.
( ۱۹۰۵ ، فرہنگ آصفیہ ، ۱ : ۱۸۲ )
طمانچے کا لگنا تھا کہ نعمیہ نے ایک آفت توڑ ماری.
( ۱۸۷۷ ء، توبۃ النصوح ، ۱۰۸ )
حکیم صاحب نے اپنی تالیف میں انشا کے باب میں آفت توڑی ہوگی
( ۱۹۴۲ ء، شیرانی ، مقالات ، ۳۰۰ )