ابھی سن پائیں تو آفت جوئیں
( ۱۹۱۵ ء، سجاد حسین ، حاجی بغلول ، ۵۵ )
ظالم ہارے گا ضرور مگر خدا جانے کیسی آفت جوت کے اوردنیا کو کس دہاڑے پر پہنچا کے.
( ۱۹۲۳ ء، مضامیں شرر ، ۳/۱ : ۱۴۳ )
اس چھنالے کے مزے کو کواریاں بالیاں یہ آفت جوتتی ہیں.
( ۱۸۷۷ ء، طلسم گوہر بار ، ۷۶ )