محمد کہپے جکوئی کہ اچا منجے کہا خدا قیامت کے روز دس آیتاں میں یعنی دسو نشانیاں معرفت خدا کی پچھانت کیاں سو آیت اس میں میرے بدل عذر منگتے ہیں.
(۱۶۶۳، میراں جی خدانما، شرح تمہیدات ہمدانی (ترجمہ) (ق)، ۴۲۵)
لوہے سے نہ رکتی تھی روانی تھی غضب کی
آیت تھی قیامت نشانی تھی غضب کی
بھٹیں پر سر رکھنا ہور آیت پڑنا، یو یک رسم عام ہے.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۰۱)
آیت حجاب کی تھی شانوں میں جس کی نزول
سر ننگے پا برہنہ لائے اُنھوں کو جاہل
کسی سورت میں بھی باقی نہیں جاے تاویل
کسی آیت میں بھی ممکن نہیں ابہام یہاں
تل کی آیت رکھے ہیں مکھ اوپر اب علم سیتیں
عالماں کوں کدھیں تفسیر تو نا جانے جائے
وہ ابرو میں ہے یوں بینی کو رونق
طلا سے جس طرح آیت پہ مطلق
خال رخ روشن کی ہے پیہم یہ اشارت
والفجر کے بعد آئی ہے قرآن میں آیت