ایک ہفتہ تیاری میں کٹ گیا ، پاپا اور ماما پھولے نہ سماتے تھے اور سب سے زیادہ خوش تھی کُسم۔
(۱۹۳۶ ، پریم چند ، پریم چالیسی ، ۲ : ۱۲)
اس ماما نے بہت مہربانی سے سلام کیا ۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۸۱ )
دروازے پر آواز دی لونڈی یا ماما نکلی حال پوچھ کر اندر گئی ۔
( ۱۸۸۰ ، آب حیات ، ۲۱۹ )
مامائیں ، اصلیں کھانا پکاتی تھیں ، بیویاں یا کتاب پڑھ رہی ہیں یا کچھ سی پرو رہی ہیں ۔
( ۱۹۰۰ ، شریف زادہ ، ۸۵ )
روٹی ڈالنے کے لیے ماما رکھی جاتی تھی ۔
( ۱۹۶۲ ، ساقی ، کراچی ، جولائی ، ۴۷ )