حضرت آدم علیہ السلام بہشت میں اکیلے گھبرایا کرتے تھے ان کے بہلانے کو خدا نے ماما حوّا کو پیدا کیا۔
(۱۸۶۸، مراۃٔ العروس ،۱۱۲)
مستری نے کہا یہ ماما حوّا کا مزار ہے۔
(۱۹۷۶، اردو نامہ کراچی، جون ، ۱۴۲)
بادشاہ نے پوچھا یہ ماما حوّا کون ہے لوگوں نے کہا فلانے قیدی کی ما۔
(۱۸۰۳ ، گنجِ خوبی ،۵۳)