آخر یہ ٹھری کہ بوسہ بہ پیغام تدبیروں سے کام نہیں چلتا۔
(۱۸۸۳ ، دربار اکبری ، ۲۵۹)
قاصد کے ہاتھ چوم لیے میں نے لے کے خط
یہ اک طرح کا بوسہ بہ پیغام ہوگیا
(۱۹۰۵ ، داغ ( نور اللغات ، ۱ : ۶۹۵ ))
۲۔ امر محال۔
( نور اللغات ، ۱ : ۶۹۵ )
[بوسہ + ف : بہ ، حرف جار + پیغام (رک) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .