ہلیا ہاتھ سوں اپنے بستاں کوں وہ
دیوے بوسہ زلف عروساں کوں وہ
بولا کہ پہلے بادشاہ کے ہاتھ پانوں کو بوسہ دے۔
(۱۸۰۰، باغ و بہار ، ۱۸۵)
بایاں گھٹنا ٹیک کر ممدوحہ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔
(۱۹۳۸ ، حالات سرسید ، ۳۸)
غزل سن کے اک بوسہ دے ڈال پیارے
یہی تجھ سے ناسخ صلا چاہتا ہے
فرمایا آپ باہیں تو گردن میں ڈال دیں
بوسے جو آنکھ کے کوئی دے تو غزال دیں