کہ یک دوز تھے جھاز سے سب یہ یار
جودوپہر کے وقت ہوا اند کار
عجب ہے کہ مہر سے اوس شوخ کے وصال کا وقت
وہ دوپہر کہ جو مخصوص زوال کا وقت
مٹی کی دوپہر پروفیسر نیّر مسعود کی بیٹھک انیس اشفاق نوجوانوں کا دستہ لے کر آن پہنچے .
(۱۹۸۰، زمیں اور فلک اور ، ۷۳)
پہلے امر کے لیے ہم کو اس زمانے پر نظر ڈالنی چاہیے جب آفتابِ اسلام کی دوپہر تھی .
(۱۹۰۴، مقالاتِ شبلی ، ۱ : ۲۳۹)
جو ہوئی رات آدھی پچھے دوپہر
خبردار یاراں ہوئے بے خبر
اول دوپہر رات گُزاے تسرے پہر میں تسرے گھڑی کو اُٹھنا .
(۱۷۹۹، نوراللہ ، تجلیاتِ ستّۂ نوریہ ، ۴۰)
ٹھہرو لاشہ اُٹھے تو جانا
جھگڑا ہے اور دوپہر کا
سچ پوچھیے تو یہ دوپہر کی رات بھی بہت ہے .
(۱۹۳۶، ریاض خیرآبادی ، نثرِریاض ، ۱۳۱)
کسی کی ایک طرح سے بسر ہوئی نہ انیس
عروج مہر بھی دیکھا تو دوپہر دیکھا
[دو + پہر (رک)].
