جب بادشاہ کا دباؤ پڑا خراج دیدیا نہیں اپنے تئیں آزاد رکھا .
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۴ : ۱۵۶).
شہر میں دو سوار آئے اور کہا کہ شاہی فوج پر ہے انتہا دباؤ پڑ رہا ہے .
(۱۹۲۵ ، غدر کی صبح و شام ، ۱۳۷).
کچھ تو پڑے دباؤ دل بے قرار پر
پارہ بھرا ہوا مری تُربت میں چاہئے