ان کی محفل میں خدا جانے ہمیں کیا ہو گیا
بیٹھے وہ چپکے مگر ہم بے تامل چیخ اٹھے
بس چیخ اوٹھا حشر بھی دوزخ سے جب اوس کو
میرے دل سوزاں کے برابر سے نکالا
سامری ہوتا تو چیخ اٹھتا .
( ۱۸۸۳ ، دربار اکبری ، ۶۳۱ ).
ہوۓ کچھ اس قدر خاموش ریوٹر
کہ چیخ اٹھے جناب پانیر تک
جب دروزی ترکی بہ ترکی جواب دینے لگے تو وہ چیخ اٹھے مارونی فرقہ کے عیسائیوں نے مسلمانوں کو خوب قتل کیا اور لوٹا .
( ۱۹۶۰ ، گل کدہ ، جعفری ، ۱۲۷ ).