یو طاعت خدا کی کرے تو قبول
نہ کی موں پھرا کرتوں ہووے ملول
وو ابنِ حیدر جو قضا کو قبول کر
اختیار ہو چلیا سو تمہارا حسین ہے
پیکاں جگر پسند ہے خنجر گلو پسند
قاتل مجھے قبول کرے جس کو تو پسند
علاؤ الدین کے غلاموں کے ہاتھ سے قبولِ اطاعت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مخذول اور قتل ہوا.
(۱۹۳۹ ، افسانۂ پدمنی ، ۸۳).
اپنی تہذیبی اوضاع کے معیار پر رکھ کر رد یا قبول کرسکتا ہے.
(۱۹۸۵ ، ترجمہ : روایت اور فن ، ۶۷).
مسند مطلبِ دل پر میرے کر مہر قبول
منصب لطف کا منگتا ہوں بحالی اے شوخ
قبولِ دعوت سے اونہوں نے عذاب سے نجات پائی تھی.
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۱۸۸).
کہاں کی فکر اِجابت کہاں کا ذکر قبول
مصیبتوں میں کچھ اندازۂ دعا نہ رہا
خدا کا رسول خدا کا قبول مقبول اسے یوں بھایا ہے.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۴۶).
نزدیک سب کے اُس کو ہے درجہ قبول کا
ایک عندیہ سیّد و شیخ و مغول کا
چونکہ عوام باطبع اس غذا کے خواہاں ہیں بغیر کسی دقّت کے ان کو قبولِ عام حاصل بھی ہوگیا.
(۱۹۱۳ ، مضامینِ ابوالکلام آزاد ، ۶۶).
اِس طرف قلقلِ مینا ہے اُدھر شورِ طلب
بس سمجھ لے وہ قبول اور ایجاب ہوا
جس زبان میں ’’ ایجاب ‘‘ ہوا ہوگا اسی زبان میں قبول بھی ہوگیا ہوگا.
(۱۹۲۶ ، شرر ، مضامین ، ۱ ، ۲ : ۴۵۰).
آب وہ ہوا کے اختلاف سے جس کو اراضیات کے تردد اور فصلوں کے قبول و حصول میں زمینوں کے مزاج کی مناسبت پر بہت سا دخل ہے چین و تردد میں کمال اختلاف آجاتا ہے.
(۱۸۶۵ ، رسالہ علمِ فلاحت ، ۲).
ہند ، نرکستان تاتار ، مصر ، شام ، روم ، سب اس کے حلقے میں آئے لیکن قبول اثر میں سب یکساں نہ تھے.
(۱۹۰۷ ، شعرالعجم ، ۱ : ۱).
عالم نے یہاں قبول و رد کو جانا
دیکھا دُنیا کو نیک و بد کو جانا
قبولِ قوّتِ کیواں ہے ہشتم
نہ ہو صحبت سے میری رنج کش تم