میں خدا کوں دیکھیا قبول صورت آدم کی صورت میں.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۲۱).
نبی فی احسن صورت کھے سو اس کے قبول صورتاں کی تعریف کئے ہیں.
(۱۷۶۵ ، چھ سرہار ، ۷۳).
اچھی اچھی قبول صورت ہم عمر سہیلیاں خدمت رہتی تھیں.
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۴۷).
ابھی جوان جہاں کلے ٹھلے کے گبرو ہیں اور قبول صورت ہنس مکھ.
(۱۸۸۰ ، فسانہ آزاد ، ۱ : ۱۲۵).
اب ہمیں ہر لڑکی پڑھی لکھی ، تندرست قبول صورت ... معلوم ہوتی ہے.
(۱۹۸۰ ، پرواز ، ۱۶۶).