اُمید ہے جو منج کوں کرے شہ قبول
زبرکت محمدؐ و آل رسولؐ
دعا جب کرے اون کی اللہ قبول
جبہی آئے دنیا پر ہووے نزول
حق تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ایک فرزند عنایت کیا.
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۶۶).
نہ کر دل میں وسواس کچھ سمجھ سے بول
میں عاشق ہوں تجھ پر مجھے قبول
خلع عورت کے حق میں معاوضہ ہے یہاں تک کے صحیح ہے کہ عورت قبل قبول کرنے خاوند کے رجوع کر جاوے جب کے ایجاب عورت کی طرف سے ہووے.
(۱۸۶۷ ، نورالہدیہ ، ۲ : ۷۰).
تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
پھر آخر انہیں قبول کرنے والوں کے بھی محسوس کرنے اور قبول کرنے کے کچھ اسلوب تھے.
(۱۹۸۶ ، اردو فسانہ روایت اور مسائل ، ۴۶۹).