آج کچھ بانسوں اوچھلتا ہے کلیجا میرا
ہاں ذرا دوڑ کے سینے سے لپٹ جایئے تو
میرا کلیجہ بلیوں اچھلتا ہے بھری برسات کے دن اے ہے ! کہیں پھسل نہ پڑیں تو قہقہہ اُڑے .
( ۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۱ : ۱ ).
آستانہ کے چاروں طرف کئی سو سپاہیوں کا پہرہ تھا مگر بیگم کا کلیجہ ڈر کے مارے بلیوں اچھل رہا تھا .
( ۱۹۳۳ ، فراق دہلوی ، لال قلعہ ایک جھلک ، ۴۸ ).
