اس ردیف قافیہ میں کوئی یہ شعر نکالے تو کلیجہ نکل پڑتا ہے .
( ۱۸۸۰ ، آبِ حیات ، ۳۹۶ ).
کیا بتاوں میرا آپ ہی بخار کے نام سے کلیجہ نکل پڑا ، ان کا کیا بگڑا .
( ۱۹۱۷ . سنجوگ ، ۵۶ ).
عائشہ ، ہائے خدا میرا تو کلیجا نکل پڑتا ہے .
( ۱۹۴۷ ، دھانی بانکیں ، ۱۴ ).
