تیرے آنے سے میرا کلیجہ ٹھنڈا ہوا .
( ۱۸۰۲، باغ و بہار ، ۲۲ ).
تم گلے سے لگ گئے ٹھنڈا کلیجا ہو گیا میرے دل میں جو پھپھولا تھا وہ اولا ہو گیا
( ۱۸۳۶ ، ریاض البحر ، ۲۴ ).
ہم ان کی آتشِ فرقت میں جل جائیں کہ مر جائیں کسی صورت کلیجا ان کا ٹھنڈا ہو نہیں سکتا
( ۱۹۰۵ ، نقد حرف ، ۲۸۷ ).
