ان سنگ دل بتوں کو نہ اے داغ رحم آئے
رکھ دے جو کوئی اپنا کلیجا نکال کے
گویا کاغذ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کے .
( ۱۸۵۷ ، رباعیاتِ امجد ، ۲ : ۲ ).
غالب ... خالص ملکہ رکھتے تھے اور اسی لئے مثنوی میں ... کلیجہ نکال کر رکھ دیا .
( ۱۹۸۷ ، نگار ، کراچی ، ( سالنامہ ) ، ۷۷ ).
